ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: ٹیموں کی صورتحال اور سیمی فائنل کے امکانات
پوائنٹس جدول میں ہر جیت، ہار اور نیٹ رنز کی شرح ٹیموں کی سیمی فائنل تک رسائی میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مراحل میں ٹیموں کی کارکردگی نے کرکٹ کے شائقین میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔
پوائنٹس جدول میں ہر جیت، ہار اور نیٹ رنز کی شرح ٹیموں کی سیمی فائنل تک رسائی میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔
اب تک کی صورتحال میں گروپ اے سے پاکستان اور بھارت، گروپ بی سے سری لنکا اور زمبابوے، گروپ سی سے ویسٹ انڈیز، اور گروپ ڈی سے نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا سیمی فائنل کھیلنے کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں 40 میچز کھیلے جائیں گے، جن میں سے اب تک 21 میچ کھیلے جاچکے ہیں، جبکہ 19 میچز ابھی باقی ہے، جس کے بعد سیمی فائنل کی واضح صورتحال آجائے گی۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ کا سب سے بڑا اپ سیٹ، زمبابوے کے ہاتھوں آسٹریلیا کو شکست
گروپ اے میں بھارتی ٹیم اور پاکستان قومی کرکٹ ٹیم اپنے پہلے دو مقابلے جیت کر چار پوائنٹس کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس گروپ میں امریکا اور نیدرلینڈز نے ایک ایک مقابلہ جیتا ہے جبکہ نمبیا کی ٹیم اب تک کوئی پوائنٹس حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
گروپ بی میں سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے بہترین آغاز کیا ہے اور ہر ٹیم کے چار پوائنٹس ہیں۔ اس کے مقابلے میں آسٹریلیا نے ایک جیت اور ایک ہار کے ساتھ دو پوائنٹس حاصل کیے ہیں، جبکہ آئرلینڈ اور عمان کی ٹیمیں ابھی تک کوئی پوائنٹ حاصل نہیں کرسکی ہیں۔
گروپ سی میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم دو مقابلوں میں جیت کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ اسکاٹ لینڈ، اٹلی اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ نیپال کی ٹیم پوائنٹس جدول میں ابھی صفر کے ساتھ پیچھے ہے۔
گروپ ڈی میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کی ٹیموں نے اپنے دونوں مقابلے جیت کر چار، چار پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل کی دوڑ میں مضبوط پوزیشن حاصل کی ہے، متحدہ عرب امارات کی ٹیم ایک مقابلہ جیت کر دو پوائنٹس حاصل کرچکی ہے جبکہ افغانستان اور کینیڈا کی ٹیمیں ابھی تک کوئی پوائنٹ حاصل نہیں کرسکی ہیں۔
پوائنٹس جدول کے مطابق گروپ مراحل کے آخری مقابلے فیصلہ کن ہوں گے اور سیمی فائنل میں کون سی ٹیمیں پہنچیں گی یہ انہی نتائج پر منحصر ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ بھی پوائنٹس جدول میں اہم تبدیلی لا سکتا ہے اور دونوں ٹیموں کے سیمی فائنل کی راہیں واضح کر سکتا ہے۔
