بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے حالیہ انتخابات میں لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کرلی ہے، لیکن یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ بی این پی عوام کی توقعات پر پورا اتر پائے گی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیش کی سابق حکمران شیخ حسینہ واجد اور ان کی پارٹی کی عدم موجودگی میں ہونے والے الیکشن میں اگرچہ بی این پی اور جماعت اسلامی نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس کے باجود دونوں پارٹیاں ابھی تک فتح کا جشن منانے سے گریزاں ہیں، جو بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
تقریباً دو دہائیوں بعد، بی این پی بھاری اکثریت سے پارلیمانی انتخابات جیت کر دوبارہ اقتدار میں آ گئی ہے۔ ہفتے کے روز الیکشن کمیشن نے منتخب ارکانِ پارلیمان کا سرکاری گزٹ جاری کیا، جس سے انتخابی عمل مکمل ہوگیا۔ مرکز میں دائیں بازو کی بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 300 میں سے 212 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے بڑے حریف جماعتِ اسلامی کی قیادت والے اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔
یہ انتخابات اس ملک گیر احتجاجی تحریک کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہوئے جس نے سابق وزیراعظم کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کردیا اور وہ بھارت میں پناہ گزین ہوئی، اس دوران سڑکوں پر تقریباً 1400 افراد مارے گئے تھے۔ اس احتجاج کے بعد، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور تب سے ملک میں نگراں حکومت قائم تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی این پی کے رہنما طارق رحمان، جو متوقع طور پر اگلے وزیر اعظم بننے والے ہیں، نے جمعہ کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کی محبت پر شکریہ ادا کیا اور انتخابی مہم کے دوران جمہوریت کی بحالی کا وعدہ دہرایا۔
مزید پڑھیں: کرکٹرز کے خلاف نازیبا ریمارکس پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ڈائریکٹر عہدے سے فارغ
بی این پی کی انتخابی مہم کے ترجمان مہدی امین نے کہا کہ طارق رحمان نے وعدہ کیا ہے کہ وزیر اعظم بن کر وہ شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کریں گے۔ اگرچہ جماعتِ اسلامی نے ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا، پھر بھی ہفتے کو انہوں نے انتخابی نتائج قبول کر لیے۔
بی این پی کو حال ہی میں اپنی سابق چیئرپرسن خالدہ ضیا کے انتقال کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا، جو طارق رحمان کی والدہ اور دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکی تھیں۔ انہوں نے 1991 اور 2001 میں پارٹی کو اقتدار دلایا تھا، اور اب تقریباً بیس سال بعد ان کے بیٹے نے پارٹی کو دوبارہ حکومت میں پہنچا دیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق انتخابات میں بی این پی کی کامیابی پر اگرچہ پارٹی کے کارکن، ہمدرد اور ووٹر پرجوش نظر آتے ہیں اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے بھی پر امید ہیں، لیکن پارٹی کی قیادت کچھ زیادہ پرجوش نظر نہیں آرہی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کی اولین ترجیحات روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مہنگائی پر قابو پانا ہونی چاہئیں کیونکہ قیمتوں میں اضافے اور بے روزگاری نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ الیکشن جیتنے والی قیادت اپنا ردعمل ظاہر کرنے میں بڑی احتیاط سے ظاہر کر رہی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعہ کو دارالحکومت ڈھاکا نسبتاً پرسکون رہا کیونکہ بی این پی نے جان بوجھ کر فتح کے جلوس نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دوسری طرف جماعتِ اسلامی کے مرکزی دفتر کے باہر بھی ماحول قدرے خاموش تھا اور کچھ حامی مایوسی کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔
ایک جانب جماعت اسلامی کے حامی الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں تو دوسری جانب حسینہ واجد حکومت کے جبر کے بعد تاریخ میں پہلی بار اس قدر سیٹیں جیتنے پر شاداں و فرحاں بھی ہیں۔ جبکہ جماعت کے حلقوں میں یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ کہیں بی این پی بھی حسینہ واجد کے طرز عمل پر چلتے ہوئے جماعت اسلامی کے خلاف جبر و تشدد کا وہی سلسلہ شروع نہ کردے، جس کا آغاز حسینہ واجد نے کیا تھا، تاہم جیتی گئی 77 سیٹیں جماعت اسلامی کو مکمل اعتماد بھی فراہم کر رہی ہیں اور جماعتی حلقے اس جیت کو ایک اہم سنگ میل کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔
اگرچہ ماضی میں بی این پی اور جماعتِ اسلامی اتحادی رہے ہیں، لیکن اس بار دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مدِمقابل تھیں اور انتخابی مہم کے دوران کہیں کہیں تشدد اور سوشل میڈیا پر تلخ بیانات بھی دیکھنے میں آئے۔
بنگلا دیش میں جاری الیکشن مہم کے درمیان جماعت اسلامی کو الیکشن مہم پر چھائے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس سے یہ تاثر گہرا ہو رہا تھا کہ کہیں بنگلا دیش اسلامی شدت پسندی کی نرغے میں تو نہیں جارہا، تاہم بی این پی کی لینڈ سلائیڈ وکٹری کے بعد یہ تاثر بھی زائل ہو رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ اگرچہ بی این پی کی فتح سے یہ خدشہ کم ہوا ہے کہ بنگلا دیش کی سیاست شدت پسند دائیں بازو کی طرف چلی جائے گی، تاہم فاتح پارٹی کا اصل امتحان بھی اب شروع ہوگا۔ مبصرین اچھی حکمرانی، قانون کی بالادستی، امن و امان اور شہری حقوق کے تحفظ کو نئی حکومت کی بڑی آزمائش قرار دے رہے ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ بی این پی کی کامیابی 2024 کی عوامی تحریک سے پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بیانیے کے لیے ایک دھچکا بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ پارٹی پر موروثی سیاست اور کرپشن کے الزامات رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر نئی حکومت اصلاحات کے بجائے پرانے طرز سیاست کی طرف لوٹ گئی تو جمہوری عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
علاقائی سطح پر اس انتخابی نتیجے کو نسبتاً کم ہنگامہ خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان تاریخی طور پر جماعتِ اسلامی کے قریب رہا ہے، مگر بی این پی کے ساتھ بھی اس کے اچھے تعلقات رہے ہیں، جبکہ چین کے ساتھ بھی پارٹی کے روابط مضبوط ہیں۔ بھارت بھی موجودہ صورتحال میں بی این پی کو جماعتِ اسلامی کے مقابلے میں زیادہ قابل قبول سمجھتا ہے۔
