یونان میں کسانوں کا پارلیمنٹ کے سامنے طاقتور مظاہرہ، ٹریکٹروں سمیت دارالحکومت کا رخ
یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جارہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید شدت آسکتی ہے۔
یونان میں کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مظاہرین اپنے ٹریکٹرز کے ہمراہ دارالحکومت ایتھنز پہنچ گئے اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔
مرکزی علاقے سینٹاگما اسکوائر میں اس وقت غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا جب سیکڑوں کسان زرعی ٹریکٹروں اور گاڑیوں کے قافلوں کی صورت میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ زرعی پیداوار کی لاگت میں مسلسل اضافہ، ایندھن اور بجلی کی بڑھتی قیمتیں، سرکاری امداد میں کمی اور فصلوں کے نقصانات کا بروقت ازالہ نہ ہونا انہیں شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کررہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں کاشتکاری جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مظاہرین کے اہم مطالبات میں زرعی ایندھن پر ٹیکس میں کمی، بجلی اور کھاد کی قیمتوں میں کمی، فصلوں کے نقصانات کا فوری اور مکمل معاوضہ اور زرعی اجناس کی مناسب کم از کم قیمتوں کا تعین شامل ہے۔
احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جب کہ پارلیمنٹ اور اطراف کے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ مظاہرے کے باعث شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
دوسری جانب حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں تاہم کسان رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جارہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید شدت آسکتی ہے۔
