بھارت-امریکہ تجارتی ڈیل پر کسان تنظیمیں سراپا احتجاج
معاہدے کے تحت امریکی سویابین اور دیگر زرعی اجناس کی درآمد بڑھنے کا امکان ہے
بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف ملک بھر میں کسان تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے تیز کر دیے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں نے مختلف شہروں میں ریلیاں نکال کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی شعبے کو عالمی دباؤ کے تحت قربان نہ کیا جائے۔
کسان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان طے پانے والا معاہدہ زراعت جیسے حساس شعبے میں غیر متوازن رعایتیں فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مقامی پیداوار متاثر ہوگی اور زرعی خودمختاری کمزور پڑ سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت امریکی سویابین اور دیگر زرعی اجناس کی درآمد بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں دیسی فصلوں کی قیمتیں گر سکتی ہیں اور کسانوں کی آمدن متاثر ہو سکتی ہے۔ کچھ حلقوں نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کے ممکنہ اثرات پر بھی خدشات ظاہر کیے ہیں۔
احتجاج کرنے والے کاشتکاروں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی زرعی مشینری اور مصنوعات پر محصولات کم کیے گئے یا روس سے تیل کی درآمدات محدود کی گئیں تو اس کے بالواسطہ اثرات زرعی لاگت اور ملکی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے سے قبل کسان برادری کو اعتماد میں لیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو دیہی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔ کسان تنظیموں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
