طالبان رجیم نے افغانستان کو اندرونی جبر اور سرحد پارعسکریت کے مرکز میں بدل دیا
سرحد پار حملوں میں شہری آبادی اور علاقائی اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بین الاقوامی جریدے ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی پالیسیوں نے افغانستان کو اندرونی جبر اور سرحد پار عسکریت کا مرکز بنا دیا ہے جس سے علاقائی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مختلف عسکریت پسند تنظیموں کے جنگجو موجود ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان جیسے گروہ بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دراندازی کے واقعات اور تاجکستان کی سرحد پر مسلح حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایشیا ٹائمز کے مطابق سرحد پار حملوں میں شہری آبادی اور علاقائی اقتصادی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جب کہ پاکستان کو افغانستان سے عسکری دراندازی کا سامنا ہے۔
ایران کو بھی سرحدی اسمگلنگ کے مسائل درپیش ہیں۔ کشیدگی کے بعد روسی قیادت میں علاقائی سلامتی کے اقدامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے مذہبی سخت گیر تشریح کو سیاسی کنٹرول کے ساتھ جوڑ کر ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔ عوامی سزائیں، کوڑے اور سزائے موت کو مذہبی جواز کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے افغانستان کو تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش کی ہے۔
ایشیا ٹائمز نے بتایا کہ مذہبی اقلیتیں اور مختلف فقہی آرا رکھنے والے مسلمان دباؤ اور پابندیوں کا شکار ہیں جب کہ خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے عملاً خارج کردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والا عدم استحکام افغانستان تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔
