شمالی کوریا نے جوہری پروگرام میں نئی پیش رفت کا اعلان کردیا
ملک اپنی جوہری قوت کو تیزی سے وسعت دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، کم جونگ اُن
شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار ایندھن کی تیاری سے متعلق ایک نئی تنصیب کا انکشاف کرتے ہوئے اپنی جوہری صلاحیت میں مزید اضافے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ملک اپنی جوہری قوت کو تیزی سے وسعت دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی تنصیب میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے تاہم اس کے مقام یا آغازِ فعالیت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
جاری کی گئی تصاویر میں ایک وسیع ہال دکھایا گیا ہے جہاں ایسے آلات نصب ہیں جو جوہری ایندھن کی تیاری کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جنوبی کوریا کی فوج نے اس مقام کو یورینیم افزودگی کی تنصیب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کی جوہری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
کم جونگ اُن نے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران ملک کی جوہری صلاحیت بڑھانے کے لیے آئندہ کی ترجیحات پر بھی غور کیا ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران شمالی کوریا کی جوہری مواد تیار کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ ماضی کے مقابلے میں دوگنی ہوچکی ہے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
شمالی کوریا اگرچہ 2017 کے بعد کوئی جوہری تجربہ نہیں کرسکا لیکن اس عرصے میں اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے پروگرام کو مسلسل وسعت دی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں اور وہ ہر سال مزید ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا مختلف مقامات پر یورینیم افزودگی کی متعدد تنصیبات چلارہا ہے جن میں یانگ بیون کا مرکزی جوہری مرکز بھی شامل ہے۔
دوسری جانب عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کے سربراہ رافیل گروسی پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ شمالی کوریا کی جوہری تنصیبات میں سرگرمیوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
