سنیتا مارشل نے متنازع پوڈ کاسٹ سے متعلق خاموشی توڑ دی
دیہی علاقوں میں رہنے والی اقلیتوں کو آج بھی مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سنیتا
اداکارہ اور ماڈل سنیتا مارشل نے نادر علی کے شو سے جڑے تنازع پر پہلی بار تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے سے مکمل طور پر بے خبر تھیں تاہم بعد میں عوام کی بھرپور حمایت نے انہیں خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سنیتا مارشل نے بتایا کہ نادر علی کے کئی متنازع پروگرام پہلے ہی سامنے آچکے تھے، اسی لیے وہ ان کے پروگرام میں شرکت سے ہچکچا رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ نادر علی مسلسل رابطہ کرتے رہے، بعد ازاں اپنے شوہر حسن احمد کے ذریعے بھی درخواست کی جس پر انہوں نے انٹرویو دینے پر رضامندی ظاہر کردی۔
انہوں نے کہا کہ ریکارڈنگ کے دوران سب کچھ معمول کے مطابق تھا اور انہیں کسی بات پر اعتراض محسوس نہیں ہوا۔
تاہم پروگرام نشر ہونے کے بعد لوگوں نے انہیں مختلف پیغامات بھیجنا شروع کیے جس کے بعد انہوں نے دوبارہ پروگرام دیکھا اور انہیں احساس ہوا کہ ایک جملے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
سنیتا مارشل کے مطابق پاکستان میں یہ جملہ عام طور پر بغیر کسی خاص مقصد کے بول دیا جاتا ہے، اس لیے اس وقت انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی تھی۔
اداکارہ نے کہا کہ اس واقعے سے انہیں اور نادر علی دونوں کو سبق ملا جب کہ سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ نہ صرف پاکستان بلکہ نیپال، بنگلادیش اور بھارت سے بھی لوگوں نے ان کی بھرپور حمایت کی جس پر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔
پاکستان میں اقلیت ہونے کے تجربے پر بات کرتے ہوئے سنیتا مارشل نے کہا کہ شہری علاقوں میں انہیں کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ وہاں لوگ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔
تاہم ان کے بقول دیہی علاقوں میں رہنے والی اقلیتوں کو آج بھی مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
