آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور بھارتی بحری جہاز تباہ
حالیہ واقعے سمیت اب تک تین بھارتی جہاز حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور بھارتی بحری جہاز تباہ ہونے کے بعد بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور بھارتی بحری جہاز تباہ ہونے کے بعد بھارت کی بحری سلامتی اور سفارتی حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات جانے والا بھارتی بحری جہاز حملے کا نشانہ بننے کے بعد سمندر برد ہوگیا تاہم بھارتی حکومت اب تک اس واقعے کے ذمہ دار عناصر کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف پیش نہیں کرسکی۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ واقعے کے بعد صرف مذمتی بیان جاری کرنے تک محدود رہی جب کہ عملی سطح پر کوئی مؤثر اقدام سامنے نہیں آیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کے علاقے میں بھارتی پرچم والے متعدد جہازوں کو خطرات کا سامنا رہا ہے جب کہ حالیہ واقعے سمیت اب تک تین بھارتی جہاز حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔
بھارتی سینئر تجزیہ کار سوشانت سنگھ نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد مضبوط قیادت بھارتی بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے اور حکومت صرف رسمی مذمتوں تک محدود ہوچکی ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت عالمی سطح پر اپنے بحری اور سفارتی مفادات کے تحفظ میں کمزور نظر آرہا ہے جب کہ مسلسل واقعات کے باوجود نئی دہلی کی خاموشی داخلی سطح پر بھی تنقید کا باعث بن رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں اور عالمی معاملات میں غیر مؤثر کردار کے باعث بھارت کو بار بار سفارتی اور تزویراتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی کہا کہ بھارتی میڈیا کا ایک طبقہ زمینی حقائق کے برعکس اب بھی بھارت کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہے جب کہ حقیقت میں اہم بین الاقوامی معاملات میں نئی دہلی کی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
