غزہ میں انسانی بحران سنگین، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا، اقوام متحدہ کی وارننگ
صفائی اور کیڑوں پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال مزید بگڑنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صحت، صفائی اور بنیادی سہولیات کی کمی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے ڈپٹی اسپیشل کوآرڈینیٹر برائے مشرق وسطیٰ امن عمل رمیز الیکبروو نے غزہ کا دو روزہ دورہ مکمل کیا ہے جہاں انہوں نے روزانہ ہزاروں افراد کو کھانا فراہم کرنے والے کمیونٹی کچن کا بھی دورہ کیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق بے گھر فلسطینی خاندانوں کی جانب سے جلدی بیماریوں، انفیکشنز اور دیگر امراض میں اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے جبکہ خیمہ بستیوں میں چوہوں اور کیڑوں کی موجودگی خوراک اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ صفائی اور کیڑوں پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم دیرپا حل کے لیے غزہ میں موجود دو اہم سینیٹری لینڈ فلز تک رسائی بحال کرنا ناگزیر ہے۔
مغربی کنارے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے بتایا کہ غیر قانونی آبادکاروں کے تشدد کے واقعات میں اضافہ جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک واقعے میں ایک بچہ ہلاک ہوا، جبکہ آبادکاروں نے تقریباً 700 مویشی چرائے اور کم از کم دو خاندانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 5 سے 11 مئی کے دوران تقریباً 70 فلسطینی زخمی ہوئے جن میں 10 بچے شامل ہیں، جبکہ صرف اس سال اب تک 800 سے زائد آبادکار حملوں کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں—یعنی اوسطاً روزانہ 6 حملے۔
