ایران میں گزشتہ رات ہونے والے دھماکوں سے امریکی فوج نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا
دھماکوں کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، ایرانی حکام
ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد خطے میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی تاہم امریکی فوج نے ایران میں کسی بھی نئے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق جمعرات کی رات بوشہر کے اطراف جہاں ایران کا ایک اہم جوہری پلانٹ موجود ہے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے علاوہ قریبی شہر چغادک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی شہر کونارک میں بھی مزید تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تاہم دھماکوں کی اصل وجہ، ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دھماکوں کی اطلاعات کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے واضح کیا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے ایران کے اندر کوئی فضائی کارروائی یا حملہ نہیں کیا۔
بوشہر کے نائب گورنر برائے سیاسی و سیکیورٹی امور احسان جہانیان نے ایرانی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ بوشہر میں ہونے والی دھماکے کی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے باعث آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بوشہر کے مضافات میں موجود ایک فوجی ہیڈکوارٹر کو ایک پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان منگل سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایران نے خلیجی خطے میں قطر، بحرین اور کویت سمیت بعض فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جس سے جون کے وسط میں ہونے والی نازک جنگ بندی مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ دھماکوں کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔