ایران کے شہید سپریم لیڈر کی مشہد میں تدفین مکمل، لاکھوں افراد نے آخری سلام پیش کیا

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا اختتام مشہد میں ہو گیا جہاں انہیں روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور بڑی تعداد میں شہریوں نے اپنے رہنما کو آخری خراج عقیدت پیش کیا۔

نجف سے مشہد تک آخری سفر، تہران، قم، کربلا اور مشہد میں کروڑوں افراد نے شرکت کی جبکہ 101 سالہ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے رقت آمیز دعا کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی مشہد پہنچنے کے بعد روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں تدفین کی گئی، جبکہ ان کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے صاحبزادے آیت اللہ سید مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی۔

تدفین کے وقت مشہد کی سڑکیں سوگواروں سے بھر گئیں، جہاں عقیدت مندوں کا ایک بڑا اجتماع موجود تھا۔ لوگ کئی گھنٹوں تک اپنے سابق سپریم لیڈر کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے جمع رہے۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور جنازے سے متعلق چھ روزہ تقریبات ایران کے مختلف شہروں تہران، قم اور مشہد کے علاوہ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی منعقد ہوئیں، جن میں ایرانی میڈیا کے مطابق تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی۔

آخری رسومات کے سفر کے دوران ان کا جسدِ خاکی پہلے عراق کے شہر نجف سے ایران منتقل کیا گیا۔ ایرانی فضائیہ کے طیاروں نے جس طیارے کو حصار فراہم کیا جس کے ذریعے جسدِ خاکی مشہد ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔

اس سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو کربلا لے جایا گیا، جہاں حضرت امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے روضوں پر حاضری دی گئی اور نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔ گورنر آفس کے مطابق کربلا میں ہونے والے جلوسِ جنازہ میں 70 لاکھ سے زائد سوگوار شریک ہوئے۔

چھ روزہ آخری سفر کے اختتام پر مشہد میں تدفین کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جس میں شہریوں کے ساتھ بڑی تعداد میں مذہبی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آخری رسومات کے اختتام سے قبل 101 سالہ بزرگ عالم دین آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے خصوصی دعا کی اور نمازِ جنازہ ادا کی۔ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی 1925 میں پیدا ہوئے تھے اور انہیں ایران کے معروف سخت گیر مذہبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ان کا جنازہ سفر ایران کے مختلف علاقوں سے گزرا جبکہ عراق کے اہل تشیع کے دو مقدس ترین مقامات نجف اور کربلا بھی اس سفر کا حصہ رہے۔

چھ دن تک جاری رہنے والی دعاؤں، سوگ اور عقیدت کے بعد مشہد میں تدفین کے ساتھ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات مکمل ہو گئیں۔

Related posts

ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر مفتی تقی عثمانی کا اہم فتویٰ سامنے آ گیا

گولز کی بارش، سنسنی خیز مقابلے اور بڑے اپ سیٹس، کیا یہ تاریخ کا سب سے بہترین ورلڈ کپ بن گیا؟

ایران میں گزشتہ رات ہونے والے دھماکوں سے امریکی فوج نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا