آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے، کوئی ملک اس کو کنٹرول نہیں کرسکتا، امریکی وزیرخارجہ
ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا تاہم سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں، امریکا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی گزرگاہ ہے جسے کوئی ایک ملک کنٹرول نہیں کر سکتا اور ایران کو یہاں ٹول ٹیکس لینے یا رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ”پروجیکٹ فریڈم“ کے دوران امریکی بحری جہاز دفاعی کردار ادا کر رہے ہیں اور اگر ایرانی فاسٹ بوٹس حملہ کرتی ہیں تو امریکا بھرپور دفاعی جواب دے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور بحری قزاقی جیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
انکا کہنا تھا کہ امریکی افواج بحری جہازوں کی رہنمائی کر رہی ہیں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے گزر سکیں جبکہ حالیہ جھڑپوں میں 10 شہری ملاح ہلاک ہو چکے ہیں اور 7 ایرانی فاسٹ بوٹس کو تباہ کیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ناکہ بندی کی ہے جس سے ایران کو یومیہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایران کی آمدنی اور جوہری پروگرام کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا تاہم سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ جلد مثبت پیش رفت ہوگی۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی افواج یا جہازوں پر حملہ کیا تو امریکا پوری طاقت سے جواب دے گا جبکہ واشنگٹن کا مقصد خطے میں امن اور بحری راستوں کی بحالی ہے۔
