ایران کے خلاف نازیبا گفتگو؛ امریکی سیاستدانوں نے ٹرمپ کے بیان کو پاگل پن قرار دے دیا
ڈیموکریٹک رہنما نے کہا کہ ٹرمپ سوشل میڈیا پر "غیر ذمہ دارانہ انداز” اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کے بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں
امریکی سینیٹرز اور ارکانِ کانگریس نے ایران کے حوالے سے دیے گئے بیانات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے بیان کو پاگل پن قرار دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا کہ صدر ٹرمپ سوشل میڈیا پر “غیر ذمہ دارانہ انداز” اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کے بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کھلے عام ایسے اقدامات کی بات کررہے ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
ڈیموکریٹک رکن کانگریس گریگوری میکس نے بھی ٹرمپ کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے امریکا کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
دیگر ڈیموکریٹک ارکان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچارہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے بھی ٹرمپ کے بیان کو “انتہائی غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گفتگو حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
ارکان کانگریس نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں اشتعال انگیز بیانات نہیں بلکہ ذمہ دارانہ رویہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا حل ہے۔
منگل کا دن ایران کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، ٹرمپ کی دھمکی
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور دھماکہ خیز بیان دیتے ہوئے خطے میں خطرے کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ منگل کا دن ایران کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران میں بجلی گھروں اور پلوں کو بیک وقت نشانہ بنایا جائے گا جب کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایران کو ”جہنم جیسی صورتحال“ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایک انتہائی خطرناک اور پیچیدہ آپریشن کے ذریعے ایرانی حدود سے ایک شدید زخمی ایف-15 پائلٹ کو بازیاب کروایا۔
