ایرانی میزائلوں کے حملے میں وسطی اسرائیل کے کئی شہروں میں آگ بھڑک اٹھی
تباہ شدہ میزائلوں کے ٹکڑے زمین پر گرنے سے مختلف علاقوں میں آگ لگ گئی
اتوار کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے ملبے گرنے کے بعد وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، مقامی میڈیا نے اس کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریسکیو اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر حولون، ریشون لیسیون اور بنی براک میں بھیجا گیا جہاں میزائلوں کے ٹکڑے گرنے کے بعد کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ایرانی میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے فضا ہی میں تباہ کر دیا، تاہم تباہ شدہ میزائلوں کے ٹکڑے زمین پر گرنے سے مختلف علاقوں میں آگ لگ گئی۔
دوسری جانب اسرائیل کی ایمرجنسی میڈیکل سروس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ملی۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے ہیں جنہیں روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اسرائیل اور امریکا نے 28 فروری کو مشترکہ حملہ کر کے ایران کو نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک تقریباً 1300 افراد ہلاک اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جس کے بعد تہران نے اسرائیل سمیت خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے شروع کر دیے ہیں۔
