برطانوی وزیراعظم کا ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بننے کا اعلان
آبنائے ہرمز کھولنا کوئی آسان کام نہیں، جنگ کے بعد ایران کے ساتھ معاہدےکی ضرورت ہوگی، نیوز کانفرنس
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور خطے میں کشیدگی کو مزید پھیلنے نہیں دیا جائے گا۔
نیوز کانفرنس میں کیئر اسٹارمر نے کہا کہ موجودہ جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور اس صورتحال کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کی ضرورت پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ سمندری آمدورفت کی بحالی کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا آسان کام نہیں۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلے کے تیز تر حل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کو مزید پھیلنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تین ہفتوں بعد برطانیہ میں تین ماہ کے لیے تیل کی قیمتیں فکس کر دی جائیں گی۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ تیل کمپنیوں کو جنگ کی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر غیر معمولی منافع کمانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جلد وولوڈیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ کے مفادات ان کے لیے سب سے اہم ہیں اور وہ اصولوں پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے جتنا بھی دباؤ آئے، برطانوی عوام کے مفادات کا تحفظ جاری رکھا جائے گا اور جنگ کو ولادیمیر پوتن کے لیے فائدہ مند موقع نہیں بننے دیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مطابق تیل کی ترسیل پر بڑھتے اخراجات کا واحد مستقل حل جنگ کا خاتمہ ہے۔
