پیرس میں سول نیوکلیئر توانائی کا عالمی اجلاس، توانائی کے بحران کے حل کیلئے جوہری ٹیکنالوجی پر زور
اجلاس کا مقصد دنیا بھر میں سول نیوکلیئر توانائی کو دوبارہ فروغ دینا ہے
فرانس میں سول نیوکلیئر توانائی کے فروغ سے متعلق دوسرے عالمی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے تقریباً 40 ممالک کے اعلیٰ سرکاری نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں توانائی کے عالمی بحران، مستقبل کی حکمت عملی اور نیوکلیئر توانائی کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس کے قریب منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس کی میزبانی کی، جس میں عالمی رہنماؤں، ماہرین اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کر کے صاف اور پائیدار توانائی کے مستقبل پر گفتگو کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی صدر نے جدید نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 200 ملین یورو کی گارنٹی اسکیم کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے۔
فرانس میں ہونے والے اس اجلاس کا مقصد دنیا بھر میں سول نیوکلیئر توانائی کو دوبارہ فروغ دینا اور اسے توانائی کی خودمختاری کے مؤثر ذریعے کے طور پر پیش کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ وہ معیشتیں جو زیادہ تر فوسل فیول یعنی تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہیں، عالمی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق نیوکلیئر توانائی نہ صرف کم کاربن توانائی کا اہم ذریعہ ہے بلکہ یہ ممالک کو توانائی کے شعبے میں زیادہ خودمختار اور مستحکم بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں اور ماہرین نے مستقبل میں صاف اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
