دی ہنڈریڈ؛ معین علی کا ای سی بی سے پاکستانی کھلاڑیوں کے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ
کسی بھی قسم کی نسل یا قومیت کی بنیاد پر بھرتی ناقابل قبول ہوگی اور کھلاڑی اس پر خاموش نہیں رہیں گے، معین علی
لندن: سابق انگلش آل راؤنڈر معین علی نے انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ’’دی ہنڈریڈ‘‘ ٹورنامنٹ میں شامل ہونے سے روکا نہ جائے۔
سابق انگلش کھلاڑی کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی نسل یا قومیت کی بنیاد پر بھرتی ناقابل قبول ہوگی اور کھلاڑی اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔
معین علی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دی ہنڈریڈ میں کچھ فرنچائزز کے مالکان بھارتی لیگ (آئی پی ایل) سے جڑے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کو اس سال کی ڈرافٹ میں نہیں شامل کریں گی۔
انہوں نے بتایا کہ 67 پاکستانی کھلاڑی اس ڈرافٹ میں رجسٹر ہیں اور اگر کسی کھلاڑی کو قومیت کی بنیاد پر خارج کیا گیا تو اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں 2008 کے بعد موقع نہیں ملا اور اب اسی مالک گروپس کی بنیاد پر عالمی لیگز میں بھی وہی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔
معین علی نے اس رویے کو غیر منصفانہ اور غیر قبول قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ انگلینڈ میں اس کا حل نکالا جا سکتا ہے کیونکہ برطانوی کرکٹ بورڈ کے پاس اس پر کنٹرول ہے۔
معین علی کے بیان پر ای سی بی اور تمام آٹھ فرنچائزز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ٹورنامنٹ ہر کھلاڑی کے لیے کھلا اور شمولیتی ہوگا اور کسی کو قومیت کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جائے گا۔
بورڈ کا کہنا تھا کہ تمام ٹیمیں کھلاڑیوں کے انتخاب میں صرف کھیل کی کارکردگی، دستیابی اور ٹیم کی ضروریات کو دیکھیں گی۔
معین علی نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھارت میں آئی پی ایل کھیل کر بہت اچھے تجربات حاصل کرچکے ہیں اور ان کا مقصد صرف ساختی مسائل کی نشاندہی کرنا ہے۔
انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوٹرل مقام پر میچز ہوں گے جو کرکٹ کی شائقین کے لیے زبردست تجربہ ہوگا۔
