خیبرپختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کن وجوہات کی وجہ بنا پر استعفیٰ دیا، اس حوالے سے ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے سب تفصیلات بول کو بتا دیں۔
پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے بول نیوز کے پروگرام بول رپورٹ ود بتول راجپوت میں بتول راجپوت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب علی امین گنڈاپور وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو ان کے اوپر کچھ باس مقرر کیے گئے۔
افضل مروت نے کہا کہ سب سے پہلے تو اسمبلی ہی ہوتی ہے جس کے پاس وزیر اعلیٰ کے احتساب کا اختیار ہوتا ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی نے ان کے احتساب کے لیے ایک کمیٹی بنادی تھی اور اس کمیٹی کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی اگر کوئی شکایت ہوتو اسے دیکھے، تاہم ان میں سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی پی ٹی آئی نے علی امین کی اسکروٹنی کے فرائض سوشل میڈیا کو دے دیے تھے، اور سوشل میڈیا نے ان کی اسکروٹنی اس انداز سے کی کہ گالم گلوچ پر اتر آئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر علی امین گنڈا پور محسن نقوی سے ملتے تو گالم گلوچ، وزیراعظم سے ملتے تو بھی اسی طرح کی زبان استعمال کی جاتی، کہیں پر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے تو بھی انہیں اسی طرح کے رویے کا سامنا کرنا پڑتا۔
افضل مروت کا کہنا تھا وکلاء کی فیس بھی علی امین ہی ادا کرتے تھے، جلسے جلوس کے لیے گاڑیوں کا ایندھن، ورکرز کے کھانے پینے کا انتظام، جو لوگ جیل چلے جاتے ہیں ان کے لیے وکلاء اور ان کی ضمانتوں کا بندوبست کرنا بھی علی امین کا کام تھا۔
صوابی میں جلسے کا خرچہ، اسی طرح ایک اور جلسہ سنجانی میں ہوا پھر لاہور میں ہوا اس طرح پانچ چھ جلسے ہوئے اور ان پر کروڑوں کا خرچہ ہوا یہ سب انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیا، کسی ایک رہنما نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا، یہ سارے کام علی امین سے لیے جارہے تھے اور ان سب کے باوجود انہیں گالیاں بھی دی جارہی تھی۔
افضل مروت نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا علی امین کو اس انداز میں صرف وزیر اعلیٰ رہنے کی اتنی بڑی قیمت چکانی پڑ رہی تھی، اور ان کے برطرف کیے جانے میں شاید ان کی اپنی منشا بھی شامل تھی، کیونہ وہ تنگ آئے ہوئے تھے کیونکہ کوئی روک ہی نہیں رہاتھا سوشل میڈیا کواور آخر میں انہوں نے خود ایسے ہی کام کرنا شروع کردیے، جیسے علیمہ خان کے خلاف انہوں بیان دیا ایک طرح سے ان کی دلچسپی ہی نہیں رہی تھی وزراعلیٰ رہنے میں، یہاں تک کہ خان صاحب سے جب ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں ان سے واضح طور پر کہا تھا کہ آئندہ اگر کوئی احتجاج اسلام آباد کی طرف مارچ کرتا ہے تو وہ لیڈ نہیں کریں گے بلکہ یہ کام ورکرز انجام دیں اور ورکرز کو سوشل میڈیا گائڈ کرے گی۔
یہی ساری وجوہات ہیں جن کی بنا پر انہوں نے خود وزارتِ اعلیٰ سے جان چھڑانی۔