کراچی پریس کلب کے باہر خواجہ سرا برادری اور سول سوسائٹی کی جانب سے حالیہ دنوں میں تین خواجہ سراؤں کے بہیمانہ قتل کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔
احتجاج کا انعقاد ’جسٹس فار خواجہ سرا کمیونٹی‘ کے تحت کیا گیا، جس میں مختلف شہروں سے خواجہ سرا رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
احتجاج میں چاندنی شاہ، ڈاکٹر سارہ گل، ایڈوکیٹ نشاء راو، کامی چوہدری اور بندیا رانا سمیت کئی نمایاں خواجہ سرا رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کی خواتین نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں خواجہ سرا کمیونٹی کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم میں تیزی آ رہی ہے۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حالیہ قتل کیسز میں ملوث قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور خواجہ سرا کمیونٹی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
خواجہ سرا رہنما بندیا رانا نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے مسائل حکومت تک پہنچا رہے ہیں۔ ہمیں نوکریاں نہیں دی جاتیں، سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، اور بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عناصر کی جانب سے خواجہ سرا کمیونٹی کے خلاف منفی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، جس سے ان کے لیے سماجی سطح پر مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
احتجاج میں حیدرآباد اور سکھر سے بھی خواجہ سرا کمیونٹی کے افراد شریک ہوئے، جنہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں خواجہ سرا افراد کے خلاف ہونے والے مظالم کا نوٹس لیا جائے اور مستقل تحفظ فراہم کیا جائے۔
مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ خواجہ سرا بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور انہیں بنیادی انسانی حقوق، روزگار، تحفظ اور عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔
