غزہ میں زمینی آپریشن،اسرائیلی وزیراعظم اور فوجی سربراہ کے درمیان اختلافات کا انکشاف

تل ابیب: اسرائیلی فوجی چیف آف اسٹاف نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے جس کے تحت غزہ پر مکمل قبضہ کیا جانا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی نہ صرف اسرائیلی فوجیوں بلکہ غزہ میں زیر حراست قیدیوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، چیف آف اسٹاف ایئل زامیر نے واضح کیا کہ اگر فوج کو زمینی آپریشن کی ہدایت دی گئی تو اس سے قیدیوں کے مقامات کی نشاندہی مزید مشکل ہو جائے گی اور ان کی زندگیوں کے ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی بمباری سے غزہ میں مزید 63 شہید، قحط سے اموات میں اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو قیدیوں کے تحفظ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

امریکی اخبار نے لکھا کہ زامیر اور نیتن یاہو کے درمیان پالیسی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ نیتن یاہو غزہ پر مکمل قبضے کے حامی ہیں تاکہ حماس کو ختم کیا جا سکے، لیکن فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ راستہ مزید جانی نقصان اور پیچیدگیوں کو جنم دے گا۔

اخبار کے مطابق، اسرائیلی فوجی چیف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری بھی قیدیوں کی زندگیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور اسرائیل پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوجی چیف کے خدشات کو نظر انداز کیا تو اسرائیلی سیاست اور فوجی حکمت عملی کے درمیان سنگین تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

Related posts

حکومت نے آج پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی میں کم ہوکر 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گیا

پی ایس ایل 12 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا