انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں صدرنہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود اب تک ختم ہوچکا ہوتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی صدر احمد الشرح کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ ایک بہترین اقدام تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پابندیاں ہٹانے سے شام کو فائدہ ہوا ہے اور اگر حالات اسی طرح بہتر رہے تو شام کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے شامی صدر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاندار کام کیا ہے اور شام اب ایک مستحکم ملک بن چکا ہے۔
اس موقع پر شامی صدر احمد الشرح نے کہا کہ شامی عوام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری دونوں عوام کے مفاد میں ہے۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صدر نہ ہوتے تو اسرائیل کا وجود اب تک ختم ہوچکا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ شام حزب اللہ اور لبنان سے متعلق معاملات میں امریکا کی مدد کرسکتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔
ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے محاذ پر نمایاں پیشرفت کی ہے اور ایرانی فوج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا رویہ مناسب نہیں اور انہیں یقین ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری مواد کے مقامات کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ ایران کا جوہری مواد پہاڑوں کے نیچے موجود ہے تاہم امریکا کے پاس اسے وہاں سے نکالنے کے لیے ضروری آلات اور صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلا لے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں تیل کی قیمتیں کافی کم ہیں تاہم ایران پر جتنے زیادہ حملے ہوں گے تیل کی قیمتوں میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھتی بھی ہیں تو انہیں اس پر کوئی مسئلہ نہیں۔
