امریکی افواج نے ایران پر طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا، بندر عباس اور قشم زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا
ایرانی ترجمان نے قطری ٹینکر پر حملے کو مسترد کر دیا تھا
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دھماکہ خیز بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسل شروع کر دیا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے جن میں معصوم شہری سوار تھے۔ سینٹکام نے ایران کی اس کارروائی کو “بلاجواز، خطرناک اور جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
U.S. Central Command forces have begun launching a series of powerful strikes against Iran to impose heavy costs for targeting and attacking commercial shipping crewed by innocent civilians in an international waterway. The U.S. strikes are in response to Iranian attacks on three…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 7, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس اور قشم جزیرے پر زوردار دھماکوں کی اطلاعات ہیں جبکہ بندرعباس سے آگ کے بھڑکتے شعلے اور کالا دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم، کوسٹل سرویلنس، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائلز اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے قطر کے الزامات کو حیران کن قرار دیا اور پوری طرح مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔
اس سے قبل قطر نے ایران کے نائب سفیر کو طلب کر کے قطری ایل این جی ٹینکر پر مبینہ حملے کے خلاف باضابطہ احتجاجی مراسلہ پیش کیا تھا۔
