کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں لاپتہ، عملے میں 5 پاکستانی بھی شامل، ریسکیو آپریشن شروع

کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں لاپتہ، عملے میں 5 پاکستانی بھی شامل، ریسکیو آپریشن شروع

پی اے اے نے فوری طور پر ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فعال کر دیا ہے

شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹی ایئرویز کا کارگو طیارہ کراچی سے 155 ناٹیکل میل مغرب میں خلیج کے پانیوں میں اچانک لاپتہ ہو گیا۔ طیارے میں عملے کے 5 ارکان سوار تھے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ Boeing 734 رجسٹرڈ طیارہ AP-BOI شارجہ سے فیری فلائٹ (خالی) پر تھا۔ یہ طیارہ مرمت کے بعد واپس آرہا تھا جس کی مرمت ناردرن ٹیکنیکس کمپنی نے شارجہ میں کی تھی اور وہاں 5 دن رکا رہا۔

رات 9 بج کر 18 منٹ پر طیارے نے نیویگیشنل سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی جس پر کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری رہنمائی شروع کر دی۔ صرف 3 منٹ بعد یعنی 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا دکھائی دیا اچانک سمت تبدیل کی اور پھر رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔

لاپتا عملے کی تفصیلات یہ ہیں:

کپتان محمد رضوان ادریس، ساتھی پائلٹ فیصل جتوئی، انجنیئر محمد حامد، محمد عارف صدیقی اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان۔

پی اے اے نے فوری طور پر ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فعال کر دیا ہے۔ اسکائی ونگز ایوی ایشن اور ایدھی ائیر اسٹاف کو اورماڑہ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔

میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا ہوائی جہاز ڈیفینڈر سرچ میں شامل ہے۔ پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین متاثرہ علاقے کی طرف روانہ کر دیے گئے ہیں۔

پاک فضائیہ کا سابق طیارہ اور اے ٹی آر طیارہ (تربت سے) بھی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا جہاز لاہور بھی سرچ اینڈ ریسکیو کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ سمندر میں فاسٹ رسپانس بوٹس اور دیگر بحری اثاثے بھی فعال ہیں۔ سول ہوا بازی کے کراچی ہینگر میں سرویلنس طیارے کی ری فیولنگ جاری ہے۔

Related posts

آڈیٹر جنرل نے مزید 323 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا سراغ لگا لیا

دبئی فلمز اینڈ گیمز کمیشن اور یوبیسافٹ آدھی رات کے آغاز کے پروگرام کی میزبانی کرتا ہے اساسن کریڈ: بلیک فلیگ دبئی میں دوبارہ مطابقت پذیر

امریکی افواج نے ایران پر طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا، بندر عباس اور قشم زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا