آڈیٹر جنرل نے مزید 323 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا سراغ لگا لیا
ایف بی آر کے 19 فیلڈ دفاتر 117 ارب 77 کروڑ روپے کا سپر ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہے،رپورٹ
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر میں مجموعی طور پر 323 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جبکہ ادارے کا اندرونی کنٹرول سسٹم انتہائی کمزور اور غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اندرونی کنٹرول کی ناکامی کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ایف بی آر کے اخراجات 59 ارب 80 کروڑ روپے رہے، جبکہ ادارے نے مجموعی طور پر 11 ہزار 744 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا۔ مزید بتایا گیا کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 43 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایف بی آر کے 19 فیلڈ دفاتر 117 ارب 77 کروڑ روپے کا سپر ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہے۔ اسی طرح بلیک لسٹڈ اور معطل افراد کی جعلی انوائسز پر 41 ارب 78 کروڑ روپے کا غیر قانونی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے 16 فیلڈ دفاتر نے غیر قانونی اخراجات کے دعوؤں کی بنیاد پر 24 ارب 96 کروڑ روپے کا کم انکم ٹیکس وصول کیا، جبکہ ٹیکس حکام کی غفلت کے باعث 18 فیلڈ دفاتر 15 ارب 29 کروڑ روپے کا کم از کم ٹیکس وصول نہ کر سکے۔
مزید یہ کہ 20 فیلڈ دفاتر نے اشیاء اور خدمات کی فراہمی پر 13 ارب 3 کروڑ روپے کا سیلز ٹیکس کم وصول کیا، جس سے قومی خزانے کو مزید نقصان پہنچا۔
آڈٹ رپورٹ میں کسٹمز انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کسٹمز حکام ضبط شدہ سامان اور گاڑیوں کو بروقت ٹھکانے لگانے میں ناکام رہے، جس کے باعث 12 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا ضبط شدہ سامان زیر التوا پڑا رہا۔