وزیر پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی سے متعلق سوال پر انوکھی منطق سامنے آگئی
پاکستان اپنی ضرورت کا 70 سے 80 فیصد ریفائن پٹرول بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، علی پرویز ملک
اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق سوال پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے انوکھی منطق پیش کردی۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح عوام پر ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ کم کرنا ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی کمی کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ہر ہفتے عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق کرتی ہے جب کہ گزشتہ بیس برس سے قیمتوں کے تعین کا یہی طریقہ کار رائج ہے۔
وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ اوگرا عالمی منڈی میں قیمتوں کی اوسط اور پاکستان اسٹیٹ آئل کی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عوام کو سستا ایندھن فراہم کرنے کے لیے 130 ارب روپے مختص کیے جس کے تحت موٹر سائیکل سواروں اور عوامی ٹرانسپورٹ کو ریلیف دیا گیا۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ کاروبار میں منافع یا نقصان متعلقہ کمپنیوں کی اپنی ذمہ داری ہے تاہم حکومت کی ہدایت ہے کہ عالمی قیمتوں میں ہونے والی کمی من و عن عوام تک پہنچائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس آچکی ہیں لیکن ریفائن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی موجودہ سطح سے 15 سے 20 ڈالر زیادہ ہیں۔
وزیر پٹرولیم نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کا 70 سے 80 فیصد ریفائن پٹرول بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے جیسے ہی عالمی سطح پر ریفائن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی تو وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اس کا مکمل ریلیف عوام کو منتقل کیا جائے گا۔