بجٹ 2026-27؛ کرپٹو کرنسی رکھنے والوں کے لیے بڑی خبر
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان۔
اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس کے تحت کرپٹو ٹریڈنگ کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے پر غور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل اثاثہ جات سے حاصل ہونے والی آمدن کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے جب کہ یہ فیصلہ عالمی مالیاتی ادارے کی مشاورت کے بعد زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد پاکستان میں بھی کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے تاکہ کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو قانونی دائرے میں لایا جاسکے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستان میں قائم ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو ٹیکس تجاویز تیار کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں جس کے بعد اتھارٹی نے کرپٹو صارفین پر ٹیکس اقدامات کی سفارشات بھی تیار کرلی ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکانزم کے تعین کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے پر بھی غور کیا جارہا ہے جس کے تحت روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جاسکتی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں ایکسچینج کرکے کرپٹو مارکیٹ میں لین دین کی سہولت فراہم کرنے کے مختلف آپشنز بھی زیر غور ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ بجٹ میں کیا جائے گا۔