فیفا ورلڈکپ 2026 کا فیصلہ کن معرکہ مقامی وقت کے مطابق کل رات 12 بجے یعنی 20 جولائی لگتے ہی دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور یورپی چیمپئن اسپین کے درمیان کھیلا جائے گا جب کہ شائقین کو دو مضبوط ٹیموں کے درمیان سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔
فیفا ورلڈکپ کا فائنل امریکا کی ریاست نیو جرسی کے ایک بڑے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں 82 ہزار سے زائد تماشائیوں کی گنجائش موجود ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ گزشتہ 60 برسوں میں عالمی کپ کے فائنل میں جنوبی امریکا اور یورپ کے موجودہ چیمپئن آمنے سامنے ہوں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق ارجنٹائن نے ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ 19 گول کیے ہیں جب کہ اسپین نے پورے ایونٹ میں صرف ایک گول کھایا ہے جس سے فائنل کو مضبوط حملے اور بہترین دفاع کی دلچسپ جنگ قرار دیا جارہا ہے۔
دونوں ٹیموں کا ماضی بھی ایک دوسرے کے خلاف متوازن رہا ہے۔ اب تک ہونے والے 16 مقابلوں میں اسپین اور ارجنٹائن نے 6، 6 کامیابیاں حاصل کیں جب کہ 2 میچ برابر رہے۔
فیفا ورلڈکپ کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں صرف ایک مرتبہ 1966 کے ایونٹ میں مدمقابل آئیں، جہاں ارجنٹائن نے 2 کے مقابلے میں ایک گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔
اعزازات کی بات کی جائے تو اسپین ایک مرتبہ عالمی چیمپئن بن چکا ہے جب کہ ارجنٹائن تین مرتبہ عالمی کپ اپنے نام کرچکا ہے اور مسلسل دوسری بار ٹائٹل جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا۔
اسپین کی جانب سے میکل اویارزابال اب تک پانچ گول کرکے نمایاں رہے ہیں جب کہ مڈفیلڈ میں روڈری نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔
دوسری جانب ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی آٹھ گول اور چار معاون گول پاسز کے ساتھ اپنی ٹیم کے سب سے مؤثر کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں جب کہ لاؤتارو مارٹینیز اور اینزو فرنانڈیز نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوینتے کا کہنا ہے کہ فائنل میں بہترین کھیل اور کھلاڑیوں کی صلاحیت فیصلہ کن کردار ادا کرے گی جب کہ ارجنٹائن کے کوچ لیونل اسکیلونی نے کہا کہ 39 برس کی عمر میں لیونل میسی کا ٹیم کو فائنل تک پہنچانا غیر معمولی کارنامہ ہے۔
واضح رہے کہ اگر مقررہ وقت میں مقابلہ برابر رہا تو پہلے اضافی وقت دیا جائے گا اور اس کے بعد بھی فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں عالمی چیمپئن کا فیصلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔