مالدیپ؛ غار میں غوطہ خوری کے دوران پانچ اطالوی ہلاک
یہ غوطہ خور پچاس میٹر کی گہرائی میں غاروں کی تلاش کے دوران حادثے کا شکار ہوئے۔
مالے: اٹلی کی وزارت خارجہ کے مطابق مالدیپ میں غوطہ خوری کے ایک حادثے میں پانچ اطالوی شہری جاں بحق ہوگئے جب کہ یہ واقعہ واوو اٹول میں پیش آیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ غوطہ خور پچاس میٹر (164 فٹ) کی گہرائی میں غاروں کی تلاش کے دوران حادثے کا شکار ہوئے۔
ہلاک ہونے والوں میں جینوا یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے چار افراد بھی شامل ہیں جن میں ماحولیات کی پروفیسر مونیکا مونٹیفالکون، ان کی بیٹی اور دو محققین شامل تھے۔ پانچواں شخص بوٹ آپریشن مینجر اور غوطہ خوری کا انسٹرکٹر تھا۔
مالدیپ کی فوج نے بتایا کہ ایک لاش تقریباً ساٹھ میٹر کی گہرائی میں ایک غار سے نکالی گئی جب کہ باقی چار افراد بھی وہاں موجود ہونے کا امکان ہے۔ خصوصی آلات سے لیس غوطہ خوروں کو تلاش کے لیے بھیجا گیا ہے جسے بہت زیادہ خطرناک قرار دیا جارہا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مالدیپ کی تاریخ کا بدترین غوطہ خوری حادثہ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ پانچوں اطالوی جمعرات کی صبح پانی میں اترے تھے لیکن جب وہ واپس نہ لوٹے تو ان کے ڈائیونگ جہاز کے عملے نے اطلاع دی۔
پولیس نے بتایا کہ اس علاقے میں موسم خراب تھا جب کہ یہ علاقہ دارالحکومت مالے سے تقریباً سو کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
جینوا یونیورسٹی نے ایکس پر جاری بیان میں متاثرہ خاندانوں سے دکھ کا اظہار کیا پئ۔
واضح رہے کہ مالدیپ میں غوطہ خوری اور اسنورکلنگ کے حادثے نسبتاً کم ہوتے ہیں جب کہ گزشتہ سالوں میں کئی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
