پوٹن اور ٹرمپ میں اہم ٹیلیفونک رابطہ؛ مشرق وسطیٰ صورتحال پر گفتگو

پوٹن اور ٹرمپ میں اہم ٹیلیفونک رابطہ؛ مشرق وسطیٰ صورتحال پر گفتگو

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیج فارس کی موجودہ صورتحال پر خصوصی توجہ دی

روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں ایران، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور یوکرین جنگ سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کریملن کے ترجمان یوری اوشاکوف کے مطابق یہ گفتگو 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور اسے “بے تکلف اور پیشہ ورانہ نوعیت کی بات چیت” قرار دیا گیا۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیج فارس کی موجودہ صورتحال پر خصوصی توجہ دی۔

پوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مذاکرات کے لیے مزید گنجائش پیدا ہوگی اور خطے میں استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔

او شاکوف کے مطابق روسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پوٹن نے گفتگو میں اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ روس مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

Related posts

آج سونے کے بھاؤ کیا رہے، قیمت میں ہوئی کتنی کمی

امریکا کی مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری

پہلگام فالس فلیگ؛ سچ سے خوفزدہ مودی حکومت نے آئی ایس پی آر سمیت درجنوں پاکستانی چینلز بند کردیے