اسلام آباد امن مذاکرات؛ روس کا اہم بیان سامنے آگیا
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا ذمہ دار ایران نہیں ہے، روسی وزارت خارجہ
ماسکو: روسی وزارت خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہونے والے مذاکرات خلیجی بحران کے حل کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان امریکی و ایرانی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اکثر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کے منتظر ہیں تاہم کچھ طاقتیں خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کررہی ہیں۔
روس نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا ذمہ دار ایران نہیں ہے اور مطالبہ کیا کہ اصل حقائق نہ چھپائے جائیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق 28 فروری تک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول کے مطابق جاری تھی۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں تباہ کن جنگ کے بنیادی اسباب ختم کرنا ہوں گے اور امریکا و اسرائیل کی شروع کردہ جنگ فوری بند ہونی چاہیے۔ روس نے لبنان پر میزائل اور فضائی حملے فوری روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔
روس نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات صرف سفارتی اور سیاسی ذرائع سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ روس نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
روس نے اپنی تجویز کردہ خلیجی سیکیورٹی فریم ورک کو دہراتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مکالمہ ہی پائیدار امن کا راستہ ہے۔ روس نے خطے میں منصفانہ اور مستقل امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
