امریکا کے ایران پر تازہ حملوں کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں ہائی الرٹ
پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے اطراف تازہ امریکی کارروائیوں اور ایرانی ردعمل کے بعد خلیجی ممالک میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے جبکہ لبنان میں بھی جنگ کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقے بندر عباس کے قریب مبینہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور بحری راستوں کو لاحق خطرات کو روکنا تھا۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید کارروائیاں کیں تو ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
کشیدگی کے بڑھتے دائرے کے باعث کویت نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔ کویتی فوج کے مطابق متعدد مشتبہ میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان حملوں کا ذریعہ کون تھا۔
دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے دریائے زہرانی کے جنوب کو جنگی علاقہ قرار دے دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے مقامی آبادی کو فوری انخلا کی ہدایات جاری کرتے ہوئے شمالی علاقوں کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔
عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو جنوبی لبنان ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے جہاں ہزاروں شہری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اسی دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور جنگ بندی سے متعلق بیانات میں بھی واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے باوجود پابندیوں میں نرمی نہیں ہوگی، جبکہ ایرانی حکام محتاط انداز میں سفارتی راستے کھلے رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی عالمی تیل منڈیوں، سمندری تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ خطے میں کسی بڑی جنگ کے خدشات بھی دوبارہ سر اٹھانے لگے ہیں۔
