طالبان رجیم کا افغانستان میں شریعت کے نام پر سخت گیر امرانہ نظام کا قیام
سری لنکا گارڈین کے مطابق طالبان رجیم کا طرز حکومت اسلامی اصولوں سے متصادم ہے
معروف عالمی جریدے سری لنکا گارڈین کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان میں شریعت کے نام پر ایک سخت گیر امرانہ اور غیر نمائندہ نظام قائم کر رکھا ہے۔
طالبان رجیم میں اقتدار شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ اور ان کے چند قریبی ساتھیوں کے ہاتھ میں مرتکز، ادارہ جاتی نظام عملاً غیر فعال ہے نہ انتخابات اور نہ عوامی نمائندگی حکمرانی مکمل طور پر آمرانہ طرز پر چلائی جا رہی ہے۔
جریدے میں کہا گیا کہ فیصلہ سازی قندھار کے مختصر حلقے تک محدود، شفافیت اور احتساب کا مکمل فقدان ہے حکمرانی اداروں کے بجائے فرمانوں اور احکامات پر مبنی کنٹرول میں تبدیل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں افغان مندوب نے طالبان رجیم کی دہشتگردانہ پالیسیوں کو بےنقاب کردیا
حکومتی وزرا اور ادارے فیصلہ سازی میں مکمل طور پر بے اختیار ہیں اور تمام امور شیخ ہبت اللہ کے فرمانوں اور احکامات کے تابع ہیں اختلافِ رائے کو دبایا جا تا ہے اور خاموشی کو زبردستی رضامندی کے طور پر پیش کیا جا تا ہے۔
سری لنکا گارڈین کے مطابق طالبان رجیم کا طرز حکومت اسلامی اصولوں سے متصادم ہے خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے خارج کر کے نصف آبادی کو غیر مؤثر کر دیا گیا ہے نصاب سے جدید اور سائنسی علوم کا اخراج کردیا گیا ہے اور نظریاتی تعلیم کو فروغ دے کر مستقبل کی افرادی قوت کمزور کی جا رہی ہے۔
طالبان رجیم کاعدالتی نظام غیر مساوی قرار،عام شہریوں کو سخت سزاؤں کا سامنا ہے جبکہ بااثر عناصر محفوظ ہیں اسی طرح میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی پر پابندیاں لگا کر احتساب کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں امدادی نظام میں مداخلت اور وسائل کے غلط استعمال معاشی بدحالی کو مزید بڑھا رہے ہیں نصف سے زائد آبادی صرف انسانی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔
جریدے میں بتایا گیا کہ افغانستان میں طالبان رجیم کا موجودہ آمرانہ اور غیر نمائندہ طرز حکمرانی خطے اور پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی خطرات کو بڑھا رہا ہے، ملک میں محدود سیاسی شمولیت اور نمائندگی کی کمی مستقبل میں بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
