فضائی حملے میں زخمی ہونے والے سابق ایرانی وزیر خارجہ شہید ہو گئے
ایرانی ذرائع نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے
ایران کے سابق وزیر خارجہ اور سینئر سفارتکار کمال خرازی امریکا اوراسرائیل کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، جس سے ایرانی سفارتکاری کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران میں ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے نتیجے میں ان کی اہلیہ موقع پر ہی شہید ہو گئیں تھیں جبکہ خرازی شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔
وہ کومہ میں چلے گئے تھے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔ ایرانی ذرائع نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
کمال خرازی ایران کی اعلیٰ قیادت کے قریبی مشیر سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے سابق شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ اسٹریٹیجک کونسل آن فارن ریلیشنز کے سربراہ تھے اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات پر رہنمائی فراہم کرتے رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خرازی نہ صرف ایک تجربہ کار سفارتکار تھے بلکہ تعلیمی و اسٹریٹیجک حلقوں میں بھی ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ ان کی وفات سے ایران کے سفارتی اور فکری نظام میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔
