مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ
برینٹ کروڈ آئل 2.74 ڈالر یا 2.7 فیصد اضافہ کے بعد 102.95 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق منگل کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، برینٹ کروڈ آئل 2.74 ڈالر یا 2.7 فیصد اضافہ کے بعد 102.95 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیدیٹ 2.45 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافے کے بعد 95.95 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
مارکیٹ میں تشویش کا سبب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع گیس کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ امریکا متعدد کوششوں کے باجود آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں ناکام ہے۔
مزید پڑھیں: خطرے کی گھنٹی بج گئی، آبنائے ہرمز سے ایک لیٹر تیل نہیں گزرنے دیں گے، ایران کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر متعدد مغربی اتحادی ممالک نے جنگی جہاز شپنگ اسکورٹ کے لیے بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، جس پر انہوں نے اتحادیوں پر ناقدری کا الزام عائد کیا ہے۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے تیل کی پیداوار میں آدھی کمی کی ہے، جبکہ ایران نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ فروری میں قبضے میں لیے گئے تین ٹینکرز جاری کیے جائیں تاکہ بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ مل سکے۔
انرجی کی عالمی ایجنسی نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے ممبر ممالک کو مزید تیل جاری کرنے کا مشورہ دیا ہے، ممبر ممالک پہلے ہی 400 ملین بیرل اسٹریٹجک ریزروز سے نکالنے پر متفق ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں تیل کی عالمی قیمتیں مزید بلند رہنے کا امکان ہے، جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کم از کم تین مزید ہفتے تک فوجی کارروائی کے منصوبے رکھتا ہے۔ جس سے دنیا کی معاشی صورتحال مزید گھمبیر ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
