فلسطین میں مردہ قرار دیا گیا نوجوان ڈیڑھ سال بعد زندہ مل گیا
غزہ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ عید گزشتہ برس دسمبر میں لاپتہ ہوگئے تھے۔
ڈیڑھ سال تک مردہ سمجھا جانے والا ایک فلسطینی نوجوان اچانک اسرائیلی جیل میں زندہ ہونے کی خبر سامنے آنے پر اس کے گھر میں صفِ ماتم خوشیوں میں بدل گئی۔
غزہ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ عید نائل ابو شعر گزشتہ برس دسمبر میں روزگار کی تلاش کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔ اہلخانہ نے انہیں ہر جگہ تلاش کیا، اسپتالوں اور مردہ خانوں کے چکر لگائے مگر کوئی سراغ نہ ملا۔
عید کے والد نائل ابو شعر کے مطابق انہوں نے مختلف اسپتالوں کے مردہ خانوں تک میں اپنے بیٹے کو تلاش کیا لیکن ناکامی کے بعد خاندان نے انہیں مردہ تصور کرتے ہوئے سوگ بھی منایا اور سرکاری طور پر وفات کا اندراج کرا لیا۔
تاہم عید کی والدہ کو ہمیشہ یقین تھا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک رہا ہونے والے قیدی نے بتایا کہ اس نے اسرائیلی جیل میں عید نامی نوجوان کو دیکھا ہے جس کے بعد ایک وکیل نے تصدیق کی کہ عید اسرائیل کی عوفر جیل میں قید ہیں۔
یہ خبر سامنے آتے ہی خاندان اور پڑوسیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور گھروں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق عید ابو شعر کا معاملہ کوئی واحد واقعہ نہیں بلکہ غزہ میں ہزاروں فلسطینی اب بھی لاپتہ ہیں۔
اندازہ ہے کہ ہزاروں افراد یا تو ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا اسرائیلی حراستی مراکز میں موجود ہیں، جہاں قیدیوں سے ناروا سلوک اور تشدد کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں کیونکہ وہ نہ مکمل امید چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی حقیقت جان پاتے ہیں۔ اس صورتحال نے خاندانوں کو مسلسل بے یقینی اور خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔
عید کی والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹے کے زندہ ہونے کی خبر خوشی ضرور ہے لیکن اب انہیں اس بات کی فکر ہے کہ وہ جیل میں کن حالات سے گزر رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خوشی اس وقت مکمل ہوگی جب وہ اپنے بیٹے کو دوبارہ گلے لگاسکیں گی۔
