امریکا کی منظوری کے بغیر نیا ایرانی سپریم لیڈر قابل قبول نہیں، ٹرمپ
ٹرمپ کو ایران کے نئے رہنما کے انتخاب میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، علی لاریحانی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت سے متعلق ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کی منظوری ہونی چاہیے، بصورت دیگر نیا رہنما زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا اس انتخاب کو تسلیم نہ کرے تو ایران کی نئی قیادت کے لیے اقتدار برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا جسے امریکا نے ناکام بنا دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے لیے فی الحال کوئی ٹائم ٹیبل موجود نہیں ہے اور اگر ضرورت پڑی تو خصوصی افواج بھی بھیجی جا سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا ہے اور اب ایران کے پاس صرف بیانات رہ گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے امریکی صدر کے بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران کو توڑنے کا کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا اور ایرانی قیادت امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر متحد ہے۔
ایرانی رہنما علی لاریجانی نے بھی امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ہے اور تمام رہنما ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں میں اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن وہ ایران کے مفاد کے معاملے پر ایک ہیں۔
علی لاریجانی نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو ایران کے نئے رہنما کے انتخاب میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ صرف ایرانی عوام کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو “پسماندہ سوچ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
