پاکستان کے سول ایوی ایشن سیکٹر کو درپیش چیلنجز اور مسائل پر کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی تفصیلی رپورٹ منظرِ عام پر آگئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملکی فضائی صنعت کو معاشی، تکنیکی اور انفراسٹرکچر سے متعلق سنگین مشکلات کا سامنا ہے، جس سے ایئرلائنز کے لیے مسابقت اور آپریشنز مزید مشکل ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایئرلائنز کے اخراجات کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ ڈالر میں ادا کیا جاتا ہے جبکہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے فضائی کمپنیوں کے مالی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
کمپٹیشن کمیشن نے بتایا ہے کہ فضائی صنعت پر بھاری ٹیکسز بھی بڑا مسئلہ ہیں اور بعض بین الاقوامی فضائی ٹکٹوں میں ٹیکسوں کا حصہ 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے جس سے مسافروں اور ایئرلائنز دونوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایئرلائنز کو قرض حاصل کرنے کے لیے 13 سے 14 فیصد تک شرح سود ادا کرنا پڑتی ہے جس کے باعث نئے طیاروں کی خریداری اور سرمایہ کاری میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
سی سی پی نے نشاندہی کی ہے کہ خلیجی ممالک کی ایئرلائنز کا پاکستانی مارکیٹ پر نمایاں غلبہ ہے جس کے باعث مقامی ایئرلائنز کو غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں امیگریشن اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم میں تکنیکی مسائل کو بھی پروازوں میں تاخیر اور اضافی اخراجات کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ لاہور ایئرپورٹ پر برڈ اسٹرائیک کے خطرات جبکہ مون سون کے دوران رن وے بند ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
اسی طرح ملتان، سیالکوٹ، پشاور اور فیصل آباد ایئرپورٹس پر بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی، پارکنگ اسٹینڈز اور گیٹس کی محدود دستیابی بھی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایئرلائنز کی ویب سائٹس پر نسبتاً سستے ٹکٹ دستیاب ہوتے ہیں جبکہ گلوبل ڈسٹری بیوشن سسٹم (جی ڈی ایس) پر وہی ٹکٹ مہنگے فروخت ہوتے ہیں جس پر ٹریول ایجنٹس نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کمپٹیشن کمیشن کے مطابق کراچی اور لاہور ایئرپورٹس شہری علاقوں میں واقع ہونے کے باعث برڈ اسٹرائیک اور پروازوں میں تاخیر کے مسائل زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔
رپورٹ میں عالمی ایئرلائنز کی جانب سے پاکستان کو گرین ایوی ایشن اور سسٹین ایبل ایوی ایشن فیول اپنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایوی ایشن فنانسنگ کے لیے واضح پالیسی کے فقدان اور بینکوں کے محدود کردار کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے بعد عارف حبیب گروپ کی قیادت میں کنسورشیم کامیاب قرار پایا جس کے تحت پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں فروخت کیے گئے جبکہ حکومت نے 25 فیصد شیئر اپنے پاس برقرار رکھے۔
نجکاری کے بعد پی آئی اے کے بیڑے کو 18 طیاروں سے بڑھا کر 38 طیاروں تک کرنے کا منصوبہ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔
کمپٹیشن کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ٹیکسوں میں کمی، سستی فنانسنگ اور جدید ایوی ایشن انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعے پاکستان کا ایوی ایشن سیکٹر علاقائی سطح پر مؤثر مسابقت حاصل کر سکتا ہے۔
