امریکی عدالتی فیصلے کے بعد یورپی یونین کا تجارتی معاہدہ مؤخر کرنے کا اشارہ
گزشتہ برس جولائی میں یورپی یونین اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔
امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد یورپی قانون سازوں نے امریکا کے ساتھ اہم تجارتی معاہدے کی منظوری مؤخر کرنے کا عندیہ دے دیا۔
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 1977 کے قانون کے تحت عائد متعدد محصولات کو غیر قانونی قرار دیا جس کے بعد عالمی تجارتی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں یورپی یونین اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت یورپی اشیا پر 15 فیصد محصولات عائد کیے گئے تھے جب کہ یورپی پارلیمنٹ کو امریکی صنعتی مصنوعات پر محصولات ختم کرنے کی منظوری دینا تھی۔
تاہم تازہ عدالتی فیصلے کے بعد یورپی پارلیمنٹ کی تجارتی کمیٹی نے معاہدے کو فی الحال روکنے پر غور شروع کردیا ہے۔
یورپی کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برسلز واشنگٹن سے مزید وضاحت کا منتظر ہے اور صورتحال واضح ہونے تک کوئی حتمی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے پہلے 10 فیصد اور پھر 15 فیصد نئے عالمی محصولات کا اعلان کردیا ہے جو 150 دن تک نافذ العمل رہ سکتے ہیں تاہم توسیع کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
تجارتی ماہرین کے مطابق اگر نئے محصولات موجودہ شرحوں پر بھی لاگو ہوئے تو یورپی مصنوعات پر مجموعی محصولات 17 سے 18 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں جس سے معاہدے کی عملی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔
خیال رہے کہچین نے امریکا سے یکطرفہ محصولات ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جنگ میں کوئی فریق فاتح نہیں ہوتا۔
مبصرین کے مطابق عدالتی فیصلے نے صدر کے صوابدیدی اختیارات محدود ضرور کیے ہیں مگر عالمی تجارت میں غیر یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔
