ٹرمپ کا ایکسن موبیل کو وینزویلا میں سرمایہ کاری سے روکنے کا عندیہ
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے ایک اجلاس میں وینزویلا کو سرمایہ کاری کے لیے ناپسندیدہ ملک قرار دیاتھا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایکسن موبیل کو وینزویلا میں سرمایہ کاری کرنے سے روک سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے ایک اجلاس میں وینزویلا کو سرمایہ کاری کے لیے ناپسندیدہ ملک قرار دیا ہے۔
ایکسن موبیل کے CEO ڈیرن وڈز نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ وینزویلا میں سرمایہ کاری کے لیے قوانین میں اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اور ملک میں موجودہ قانونی، تجارتی اور سیکیورٹی فریم ورک سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی اور خطرناک ہے۔
وڈز نے کہا کہ کمپنی کے اثاثے وینزویلا میں پہلے بھی دو بار ضبط ہو چکے ہیں، اور تیسری بار واپس جانے کے لیے اہم قانونی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مضبوط تحفظات درکار ہیں۔
ٹرمپ نے ایئرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایکسن موبیل کا جواب پسند نہیں آیا، وہ بہت چالاکی سے کھیل رہے ہیں، میں انہیں (وینزویلا سے) باہر رکھنے کا سوچ رہا ہوں۔
یہ اجلاس اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے وینزویلا کی تیل صنعت میں 100 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا تھا، اور کئی بڑی امریکی توانائی کمپنیوں کو ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی تھی۔
ExxonMobil کے علاوہ ConocoPhillips اور Chevron بھی وینزویلا کی ریاستی تیل کمپنی PDVSA کے اہم شراکت دار رہے ہیں۔
لیکن سابق صدر ہوگو شاویز کے دور میں 2004 سے 2007 کے درمیان صنعت کو قومی ملکیت میں لینے کے بعد ConocoPhillips اور ExxonMobil نے ملک چھوڑ دیا تھا، اور بعد میں عدالت میں تلافی کے مقدمات دائر کیے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ فیصلہ کرے گی کہ کن کمپنیوں کو وینزویلا میں کام کرنے کی اجازت ملے گی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ آپ براہِ راست ہم سے کام کر رہے ہیں، وینزویلا کے ساتھ نہیں، ہم نہیں چاہتے کہ آپ وینزویلا کے ساتھ معاملات کریں۔
