بھارتی فوج کی بدعنوانی عالمی سطح پر بے نقاب، سابق افسر قطر میں دوبارہ گرفتار
پورنیندو تیواری کو اگست 2022 میں قطر میں سات دیگر سابق بھارتی اہلکاروں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا
نئی دہلی: بھارتی فوج کی بدنامی اور بدعنوانی ایک بار پھر عالمی منظر عام پر آگئی ہے، بھارت کے سابق فوجی افسر کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق بھارتی نیوی افسر پورنیندو تیواری کو قطر میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے مودی سرکار کی ناکامی اور فوج کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی تصدیق کے بعد بھارتی جریدہ انڈین ایکسپریس نے بھی اعتراف کیا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے سابق بحریہ افسر کی دوبارہ گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
پورنیندو تیواری کو اگست 2022 میں قطر میں سات دیگر سابق بھارتی اہلکاروں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: بوکھلاہٹ کی انتہا، بھارت نے جاسوس کبوتر پکڑ کر دنیا کو جگ ہنسائی کا موقع دے دیا
اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2023 میں قطری عدالت نے جاسوسی کے الزام میں آٹھ سابق بھارتی بحریہ افسران کو سزائے موت سنائی، جس نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔
فروری 2024 میں بھارتی حکومت کی مداخلت کے باوجود سنگین الزامات کی وجہ سے پورنیندو تیواری کو بھارت کے حوالے نہیں کیا گیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ گرفتاری محض ایک کیس نہیں بلکہ بھارت کی عسکری تربیت اور پیشہ ورانہ معیار کی ناکامی کا عالمی مظہر ہے۔
ماہرین نے پہلے بھی بھارتی فوج کی بدعنوانی، رشوت خوری اور اخلاقی جرائم پر شدید تحفظات ظاہر کیے تھے، جنہوں نے فوج کی پیشہ ورانہ ساکھ کو بھارت اور دنیا بھر میں نقصان پہنچایا۔
بھارتی فوج کی اندرونی کرپشن، اخلاقی انحطاط اور سیفرونائزیشن و ہندوتوا نظریات کے اثرات کے سبب یہ ادارہ نہ صرف بدعنوانی کا شکار ہے بلکہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بھی محروم ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیرون ملک گرفتاریاں بھارت کی عسکری پالیسی اور بد اخلاق سیاست پر بدنما داغ ہیں۔
