کراچی میں کھلے مین ہول خطرہ؛ ایک اور معصوم بچی کے گرنے کی ویڈیو وائرل

واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے گٹر میں گرنے والے 3 سالہ ابراہیم کی لاش 14 گھنٹے بعد جائے حادثہ سے ایک کلو میٹر دور نالے سے ملی تھی، عوام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی روڈ بلاک کردیا تھا جبکہ مشتعل افراد نے میڈیا اور پولیس پر حملہ کرتے ہوئے گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے تھے۔

پاکستان میں کھلے گٹروں اور مین ہولز میں گرنے سے ہلاکتوں کے واقعات عام ہیں، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہروں میں، جہاں ناقص صفائی کا نظام، ٹوٹے یا غائب ڈھکن اور گنجان آبادی والے علاقوں میں ناکافی روشنی پیدل چلنے والوں کے لیے خطرہ بنتی ہے، گٹروں میں زہریلا گندہ پانی بھرا ہوتا ہے اور آکسیجن کی کمی کے باعث چند منٹوں میں دم گھٹنے یا ڈوبنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

Related posts

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی؛ فی لیٹر پیٹرول 327 روپے 62 پیسے کا ہوگیا

25 سالہ انگلش کھلاڑی کا اچانک کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

ویمنز ایشیاکپ کا شیڈول جاری؛ پاک بھارت ٹاکرا کب ہوگا؟