کراچی میں پانی کا بدترین بحران،شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ وسطی ، شرقی اور ملیر کے اضلاع مکمل اور جزوی طور پر متاثرہے۔
پانی کا بحران جامعہ کراچی کے قریب مین لائن پھٹنے سے پیدا ہوا۔ سخی حسن ، نیپا اور صفورہ ہائیڈرینٹس بھی بند،وسطی، شرقی اور ملیرکے مکینوں کے لئے ٹینکر سروس بھی بند ہوگئے۔
کراچی فیڈری بی ایریا،ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد،نارتھ کراچی،عزیز آباد، لیاقت آباد سمیت متعدد علاقے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ۔
گلشن اقبال اور ملیر کے متعدد علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔ پانی کی مین لائنیں تواتر سے پھٹنے کی وجہ سے شہر میں پانی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
شہریوں نے اپیل کی ہے کہ پانی کی مین لائنوں کے پھٹنے کے واقعات کی تحقیقات ہونی چاہیئ۔ موسم سرما میں لائنیں پھٹنے کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ترجمان واٹر بورڈ کارپوریشن نے کہاہے کہ لائن کی مرمت ہوگئی ہے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں صورتحال بہتر ہوجائے گی۔