گھوٹکی: سابق صوبائی وزیر باری پتافی نے روزگار کی درخواست کرنے والے بے روزگار نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک نوجوان اپنی درخواست لے کر باری پتافی کے پاس پہنچا اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے ان سے ملازمت کے حوالے سے گزارش کرنے لگا۔
عینی شاہدین کے مطابق نوجوان بار بار اپنی درخواست پیش کرتا رہا مگر باری پتافی نے بات سنے بغیر اچانک اسے تھپڑ دے مارا۔ واقعے کے بعد موقع پر موجود لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور باری پتافی کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
Abdul Bari Pitafi, the chairman of the Social Development Committee of Ghotki District, Slapped a Student who was Speaking out for his Rights. Abdul Bari Pitafi’s Action will Harm the Party because the youth are our future The party Leadership should Take note of this Action. pic.twitter.com/O1f0OiVNyi
— Ashfaque Ahmed (@ishfaqnaich35) September 24, 2025
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو عوام کی بات سننی چاہیے مگر اس طرح کے رویے سے نوجوانوں میں مزید مایوسی اور اشتعال بڑھتا ہے۔ واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
سابق صوبائی وزیر باری پتافی کی جانب سے تھپڑ مارنے کے واقعے پر متاثرہ طالب علم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کی۔ طالب علم کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھنا چاہتے تھے لیکن اچانک باری پتافی نے تھپڑ دے مارا جس سے ان کا موبائل نیچے گر کر ٹوٹ گیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور باری پتافی کے خلاف نعرے بازی کی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو مسائل سننے چاہییں نہ کہ نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی باری پتافی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
