ایران کو آبنائے ہرمز پر بالادستی کی اجازت نہیں دیں گے، مارکو روبیو
امریکی مفادات یا افواج کو خطرہ لاحق ہوا تو بھرپور ردعمل دیا جائے گا، امریکی وزیر خارجہ
امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو آبنائے ہرمز پر بالادستی قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا جبکہ امریکی بحریہ خطے میں ایرانی بحری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور متعدد ایرانی آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت محدود کی گئی ہے۔
اٹلی کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کی پوپ لیو سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں عالمی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو تہران کے جواب کا انتظار ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ایران سنجیدہ مذاکرات کی طرف پیش رفت کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا خطے میں استحکام چاہتا ہے، تاہم امریکی مفادات یا افواج کو خطرہ لاحق ہوا تو بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے بین الاقوامی سمندری حدود میں اشتعال انگیزی کی جس کے بعد امریکی فورسز نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ حالیہ کارروائی کا مبینہ “ایپک فیوری آپریشن” سے کوئی تعلق نہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ دنیا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتی اور امریکا اس مقصد کو روکنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی تنصیبات یا افواج پر حملہ کیا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن حزب اللہ کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے جبکہ تمام سفارتی رابطے صرف لبنانی حکومت کے ساتھ رکھے جا رہے ہیں حزب اللہ سے براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق تجاویز پر جواب جلد موصول ہونے کی توقع ہے جس کے بعد خطے میں سفارتی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
