امریکی حملے میں اسکول کی 160 بچیوں کی شہادت، اقوام متحدہ نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
ذمہ داری حملہ کرنے والی قوتوں پر عائد ہوتی ہے۔
ایران میں ایک گرلز اسکول پر ہونے والے دل دہلا دینے والے حملے نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ابتدائی حملوں کے پہلے ہی دن 160 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد معصوم طالبات کی بتائی جا رہی ہے۔ معصوم جانوں کے ضیاع پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس واقعے کو “ہولناک” قرار دیتے ہوئے فوری، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر والکر ترک نے کہا کہ حملے کے ذمہ دار عناصر پر لازم ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں اور حقائق دنیا کے سامنے لائیں۔
جنیوا میں بریفنگ کے دوران ترجمان روینہ شمداسانی نے بھی واضح کیا کہ ذمہ داری حملہ کرنے والی قوتوں پر عائد ہوتی ہے۔
امریکی وضاحت، مگر سوال برقرار
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بناتیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اور ہلاکتوں کی تعداد اس بیان سے مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا اور عالمی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر تعلیمی ادارے محفوظ نہیں تو پھر جنگ کے قوانین کہاں گئے؟
عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ
حملے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی چیخ و پکار اور ملبے تلے دبی کتابوں اور بستوں کی تصاویر نے انسانیت کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ شہری علاقوں، خصوصاً تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔
