پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وارننگ

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر فاطمہ ثنا کو آئرلینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں امپائر کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق، فاطمہ ثنا نے لیول 1 کی خلاف ورزی کی ہے، جو کہ ضابطہ اخلاق کی شق 2.3 کے تحت آتی ہے یعنی امپائر کے فیصلے پر غیر مناسب ردعمل یا ناپسندیدگی کا اظہار۔

فاطمہ کو جرم ثابت ہونے پر ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں پہلا ڈیمیرٹ پوائنٹ شامل کر دیا گیا ہے۔

میچ کے دوران فاطمہ ثنا نے امپائر کے فیصلے پر فوری طور پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جو آئی سی سی کے ضابطے کے مطابق قابلِ گرفت عمل ہے۔ تاہم کھلاڑی نے اپنی غلطی تسلیم کر لی، جس کے بعد باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

میچ ریفری گراہم مک کریا نے واقعے کا جائزہ لینے کے بعد فاطمہ کے لیے سزا تجویز کی جسے آئی سی سی نے منظور کر لیا۔

واضح رہے کہ لیول 1 کی خلاف ورزیوں پر ممکنہ سزاؤں میں سرزنش، میچ فیس کا جرمانہ (زیادہ سے زیادہ 50 فیصد)، یا ایک یا دو ڈیمیرٹ پوائنٹس شامل ہوتے ہیں۔

Related posts

حکومت نے آج پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی میں کم ہوکر 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گیا

پی ایس ایل 12 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا