ایرانی صدر نے سرکاری گاڑی چھوڑ کر ٹیکسی کیوں لی؟ وجہ حیران کن

تہران: ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ایک غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ان کا سرکاری قافلہ راستے میں خراب ہو گیا، جس کے بعد انہیں نجی ٹیکسی کے ذریعے سفر مکمل کرنا پڑا۔

روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر تبریز جا رہے تھے جب ان کے قافلے کی تین گاڑیوں کو قزوین صوبے کے ایک پیٹرول پمپ سے ایندھن بھروایا گیا۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ پیٹرول میں پانی ملا ہوا تھا، جس کے باعث گاڑیاں اچانک بند ہو گئیں۔

غیر معیاری پیٹرول کی وجہ سے قافلے کو راستے میں روکنا پڑا، جس کے بعد صدر پزشکیان نے عوامی سطح پر مثال قائم کرتے ہوئے بغیر کسی پروٹوکول کے نجی ٹیکسی کے ذریعے تبریز کا سفر مکمل کیا۔

یہ واقعہ نہ صرف ایران میں ایندھن کے معیار پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ ایرانی صدر کے سادہ طرزِ زندگی اور غیر روایتی فیصلوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

Related posts

یومِ آزادی پر ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے نئے عزم کی ضرورت ہے، صمد عارض

پیٹرول و ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا امکان، حکومت پیٹرولیم ڈیلرز کے دباؤ میں آگئی

جشنِ آزادی یا لمحۂ فکریہ؟ پاکستانی فنکاروں کے دل گرفتہ پیغامات سامنے آگئے