غزہ میں بچوں کی حالت زار پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کی پٹی میں شدید تر ہوتے انسانی بحران پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے۔

غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز پانی کی تقسیم کے ایک مقام پر اسرائیلی فضائی حملے میں آٹھ بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس محصور علاقے پر روزانہ کی بنیاد پر شدید حملے کیے جا رہے ہیں۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسّل نے بدھ کے روز سلامتی کونسل کو بتایا کہ ہر روز اوسطاً 28 بچے مارے جاتے ہیں، جو ایک پورے کلاس روم کے برابر تعداد ہے۔

انہوں نے ارکان سے کہا کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ تقریباً دو سالوں سے ہر روز بچوں کے ایک پورے کلاس رُوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے نشاندہی کی کہ پانی، خوراک، ایندھن اور دیگر ساز و سامان کی کمی انسانی بحران کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ انسانی امداد میں رکاوٹ نہ ڈالے۔

اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی مستقل مندوب کرِسٹینا لاسن نے کہا کہ انسانی امداد کو کبھی بھی سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، اور ایسا ہونے سے دنیا بھر کے جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی کاررائیوں کے مستقبل کے لیے خطرناک مثال قائم ہو رہی ہے۔

Related posts

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات؛ پاکستان اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار

یومِ آزادی پر ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے نئے عزم کی ضرورت ہے، صمد عارض

پیٹرول و ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا امکان، حکومت پیٹرولیم ڈیلرز کے دباؤ میں آگئی