پاکستان کی فضائی تاریخ میں 180 ارب کی میگا ڈیل، پی آئی اے مکمل طور پر نجی ملکیت کے سپرد
تمام سابقہ ذمہ داریاں اور آپریشنل حقوق نئی انتظامیہ کو منتقل ہو چکے ہیں
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن موڑ آ گیا ہے جہاں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن باضابطہ طور پر نئی ملکیت اور انتظامی ڈھانچے کے تحت آ گئی ہے۔
یہ پیش رفت پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے ذریعے مکمل ہوئی ہے جو عارف حبیب کنشورشم کی اسپیشل پرپز وہیکل ہے۔
یہ تاریخی اقدام ایک سخت، شفاف اور مکمل نجکاری عمل کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت قومی ایئرلائن کو عالمی سطح کے مالیاتی اور ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق نئے سرے سے تشکیل دیا گیا۔ تمام ملکی و بین الاقوامی منظوریوں، عالمی قرض دہندگان کی اجازتوں اور ٹیکس مراعات کے بعد یہ منتقلی مکمل ہوئی۔
معاہدے کے مطابق عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے 100 فیصد ملکیت حاصل کر لی ہے۔ اس کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ، دی سٹی اسکول پرائیویٹ لمیٹڈ اور اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز شامل ہیں۔
اس بڑے معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 180 ارب روپے ہے۔ اس میں سے 55 ارب روپے براہ راست حکومت پاکستان کو نجکاری آمدن کے طور پر منتقل کیے گئے ہیں جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں بطور نئی سرمایہ کاری شامل کیے گئے ہیں۔
یہ سرمایہ کاری ادارے کی تنظیم نو، بیڑے کی تجدید، نئے بین الاقوامی روٹس اور سروس معیار میں بہتری کے لیے استعمال کی جائے گی۔
نئی انتظامیہ کے مطابق یہ ماڈل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کر کے فیصلہ سازی کو تیز اور مؤثر بنائے گا، تاکہ ادارہ عالمی معیار کے مطابق مسابقت کر سکے۔
چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی قیادت کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ قومی ایئرلائن پر عوام کا اعتماد کسی دستاویز سے نہیں بلکہ مسلسل کارکردگی سے جیتا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد ہر مسافر کے تجربے، ہر سفر اور ہر سال کی محنت سے بنتا ہے، اور نئی ٹیم اس ذمہ داری کو پوری سنجیدگی کے ساتھ قبول کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ادارے کا ڈھانچہ تبدیل ہو چکا ہے، لیکن مسافروں سے کیا گیا وعدہ برقرار ہے۔ پی آئی اے اپنی تاریخی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک جدید، پریمیم اور عالمی معیار کی ایئرلائن کے طور پر خود کو منوانے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ سفر اجتماعی عزم اور کارکردگی پر مبنی ہوگا۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ تمام سابقہ ذمہ داریاں اور آپریشنل حقوق نئی انتظامیہ کو منتقل ہو چکے ہیں اور اب کنسورشیم مکمل مالی استعداد کے ساتھ ادارے کو عالمی معیار پر لے جانے کے لیے تیار ہے۔