ٹرمپ کے سخت بیان پر ایرانی وفد احتجاجاً ہال چھوڑ کر باہر چلا گیا
ایرانی وفد نے اپنے سرکاری میڈیا نمائندوں کو بھی ہوٹل طلب کر لیا
سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں جاری اہم مذاکراتی عمل اس وقت کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا جب ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی نشست سے واک آؤٹ کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری بات چیت اس وقت تعطل کا شکار ہوئی جب امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک سخت بیان سامنے آیا جس میں ایران کو لبنان میں اپنے مبینہ پراکسیز کو روکنے کا کہا گیا اور بصورت دیگر سخت کارروائی کی دھمکی دی گئی۔
اس بیان کے بعد ایرانی وفد نے کانفرنس ہال سے باہر جانے کا فیصلہ کیا اور مزید مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں 80 منٹ تک بات چیت ہوئی جس کے بعد 45 منٹ کا وقفہ دیا گیا لیکن اس دوران سوشل ٹروتھ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ میں ایران کو واضح طور پر دھمکی دی گئی تھی جس پر وفد نے اپنا احتجاج امریکی وفد کے سامنے بھی ریکارڈ کرایا اور اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے۔
ایرانی وفد نے بعد ازاں اپنے سرکاری میڈیا نمائندوں کو بھی ہوٹل طلب کر لیا تاکہ صورتحال پر باضابطہ مؤقف سامنے لایا جا سکے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ وفد نے مذاکراتی عمل میں صدر ٹرمپ کے بیانات کو غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔